21 جون 2026 - 14:46
ایران کے ساتھ معاہدہ امریکہ کی مکمل پسپائی کے سوا کچھ نہیں، فوکویاما

مشہور [جاپانی نژاد امریکی] ماہر سیاسیات فرانسس فوکویاما نے ایران کے ساتھ معاہدے کو امریکہ کی "مکمل پسپائی" قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کر کے اس مسئلے کو حل کر لیا جسے انھوں نے خود جنگ شروع کر کے پیدا کیا تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ دنیا کے مشہور مفکر اور ماہر سیاسیات اور "اختتام تاریخ" (The End of History and the Last Man) کا نظریہ پیش کرنے والے جاپانی نژاد امریکی پروفیسر فرانسس فوکویاما ـ نے ٹرمپ کی طرف کے فتح کے دعوؤں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے: ایران کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی مفاہمت، تہران کے سامنے مکمل پسپائی اور ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے اور اس نے جو مقاصد تین مہینوں کے دوران اس جنگ کے جواز کے لئے پیش کئے تھے، ان میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں اور اب ان کے حصول کو اگلے مذاکرات سے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اور وہ "نظام حکومت کی تبدیلی" یا "غیر مشروط اطاعت" میں یکسر ناکام ہو چکا ہے۔

اس ماہر نے زور دے کر کہا ہے کہ بہت بعید ہے کہ ایران آنے والے دو مہینوں کے دوران مذاکرات کے موضوعات میں لچک دکھائے؛ کیونکہ "یہی مسائل اس کی بنیادی شناخت اور اس کے سیاسی نظام کی بقا سے جڑے ہوئے ہیں۔"

فوکویاما نے ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید MAGA (امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں) تحریک کے سخت حامیوں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ ٹرمپ نے ایک شاندار معاہدہ کیا ہے، لیکن دوسرے لوگ سمجھ جائیں گے کہ دنیا کی طاقتور ترین ریاست کا انتظام ایک "نااہل اور نادان صدر کے ذریعے چلایا جا رہا ہے؛ ایک ایسا شخص جو اگر یہ سمجھ لے کہ یہ اس کے ذاتی فائدے میں ہے، تو دوسرے ممالک اور حتیٰ کہ اپنے ہی لوگوں پر بھاری تاوان مسلط کرنے کو تیار ہے۔"

اس ممتاز تجزیہ کار نے ایران کے ساتھ بارک اوباما کے معاہدے (JCPOA) اور ٹرمپ کے مفاہمت نامے کا موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ اوباما دور کے اس معاہدے سے علیحدہ ہو گیا جس نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود اور اس ملک کی یورینیم کی افزودگی کی شرح کو کم کر دیا تھا؛ لیکن اب وہ خود ایران کے ساتھ JCPOA جیسے معاہدے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔

فوکویاما نے واشنگٹن اور تہران کے باہمی مفاہمت نامے میں "محور مقاومت کی عدم حمایت کے مطالبے" سمیت امریکہ کے کچھ دیگر مطالبات کے عدم اندراج کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، اور ٹرمپ پر لعنت ملامت کی ہے۔

اس سے قبل بھی متعدد ماہرین اور حتیٰ کہ کچھ امریکی سیاست دانوں نے ایران کے ساتھ مفاہمت نامے کو "امریکہ کی شکست" سے تعبیر کیا ہے اور زور دے کر کہا تھا کہ امریکہ ایران کی جنگ میں اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha